MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بصد خلوص بہت سادگی سے مارا گیا

بصد خلوص بہت سادگی سے مارا گیا
میں بولتا تھا مجھے خامشی سے مارا گیا

میں دشمنی سے کہاں جلد مرنے والا تھا
یہ اور بات مجھے دوستی سے مارا گیا

یہ شہر ظلمتِ شب کا سیر ہے شاید
دیا بجھا کے مجھے روشنی سے مارا گیا

تمام لوگ یہاں اپنی موت مارے گئے
مرا قصور مجھے آ گہی سے مارا گیا

کہا تھا اپنی صفیں جوڑ لو محبت سے
تمام شہر مگر خود کشی سے مارا گیا

محمد مظہر نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم