MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تم اور فریب کھاؤ بیانِ رقیب سے

تم اور فریب کھاؤ بیانِ رقیب سے
تم سے تو کم گِلا ہے زیادہ نصیب سے

گویا تمہاری یاد ہی میرا علاج ہے
ہوتا ہے پہروں ذکر تمہارا طبیب سے

بربادِ دل کا آخری سرمایہ تھی امید
وہ بھی تو تم نے چھین لیامجھ غریب سے

دھندلا چلی نگاہ دمِ واپسی ہے اب
آ پاس آ کہ دیکھ لوں تجھ کو قریب سے

آغا حشر کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم