MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پھیلا رہا چہار سو دل کا غبار بس

غزل

پھیلا رہا چہار سو دل کا غبار بس
میں نے تمام عمر کیا انتظار بس

رستہ بھٹک گئی مری آنکھوں کا نیند تک
اک بار خود کو خود پہ دیا اختیار بس

تنہائی چھیڑنے لگی ان سسکیوں کے تار
اے دوست میں نے تجھ پہ کیا اعتبار بس

جس نے لباسِ مخلصی پہنا تمام عمر
ہونا پڑا ہر ایک کا اس کو شکار بس

جس کے حدودِ عشق سے باہر قدم پڑے
کچھ بھی نہیں وہ شخص رہا بے قرار بس

مطلب سمجھ میں آئے گا اس کو بھی عشق کا
آ جائے میرے حلقے میں وہ ایک بار بس

پیروں سے کھینچ لیں گے زمیں رشتے دار یہ
ان کو سنا کے دیکھ لو دل کی پکار بس

خود سے بچھڑ کے ڈھونڈتا پھرتا ہوں خود کو میں
دل کی سنی تھی اور ہوا مجھ کو پیار بس

وہ بھی ہے خوش وہاں پہ زمانہ ہے خوش یہاں
اور غم کدے کا قیدی ہے یہ خاکسار بس

موجِ نسیمی کیا ہے سمجھ آئے گا تمہیں
اک روز بن کے دیکھو شجر سایہ دار بس

نسیم شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم