MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تلخیاں اتنی بڑھیں ہو گئے من پتھر کے

تلخیاں اتنی بڑھیں ہو گئے من پتھر کے
ایسے خاموش ہویے جیسے بدن پتھر کے

پھول پتھر کے ہیں کلیاں و چمن پتھر کے
ہم نے دیکھے ہیں کئی اہل سخن پتھر کے

کوئی احساس نہ جذبہ نہ ہی جنبش کوئی
مجھ کو لگتے ہیں یہاں سب کے دَہَن پتھر کے

کوٸ مظلوم کی امداد کو آتا ہی نہیں
یہ زمیں ہو گئی پتھر کی گگن پتھر کے

ہے عجب طرز کا زنداں بھی بنایا اس نے
بیڑیاں سنگ کی ہیں دارورسن پتھر کے

اپنی آنکھوں سے بہت بار یہ دیکھا ہے خمار
گِرد پھرتی ہے برہمن کی دلہن پتھر کے

رئیسہ خمار آرزو

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم