MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ایسا بھی اک شخص ہمارا ہو جاتا ہے

ایسا بھی اک شخص ہمارا ہو جاتا ہے
جس کے آگے چاند ستارا ہو جاتا ہے

جھلمل جھلمل اس کی آنکھیں ایسی ہیں
جیسے شام میں جھیل کنارا ہو جاتا ہے

جب سے رب کا شکر ادا کرنا ہے سیکھا
تھوڑے میں بھی خوب گزارا ہو جاتا ہے

لفظوں کا مفہوم بدلنا آجائے تو
جانی دشمن جان سے پیارا ہو جاتا ہے

لگتا ہے جب سارے رنگ ہمارے ہیں
رنگوں میں اک رنگ ہمارا ہو جاتا ہے

دل کا سودا ہے اس میں گھبرانا کیا
روز منافع روز خسارا ہو جاتا ہے

یار حماقت ہو جاتی ہے اچھی خاصی
اچھا خاصہ شخص بِچارا ہو جاتا ہے

دل ڈرتا ہےدل کا حال بتانے سے بھی
ایسا بھی تقدیر کا مارا ہو جاتا ہے

آتے ہیں واپس رنج و غم کے لمحے
جب انسان کو عشق دوبارہ ہو جاتا ہے

اس لیے عابد کوچہِ جاں میں جاتے ہیں
آتے جاتے کوئی نظارہ ہو جاتا ہے

عابد رشید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم