جب خیال آیا مجھے تیرے رخ پر نور کا
پھر گیا نقشہ میری آنکھوں میں چشم طور کا
آبلے پڑنے لگے پائے خیال و فکر میں
ہے یہ عالم آتش غم سے دل محرور کا
ایک نظر میں جس نے لاکھوں کو کیا بے ہوش و مست
دیکھنے والا ہوں میں اس نرگس مخمور کا
جز ملال و حزن و اندوہ و ہراس و درد و غم
اور کوئی اب نہیں مونس دل رنجور کا
فخر یہ ہے میں شہ وارثؔ کے در کا ہوں فقیر
مرتبہ اوگھٹؔ نہیں جو قیصر و فغفور کا
اوگھٹ شاہ وارثی