MOJ E SUKHAN

جی تو کرتا ہے کہ اک حشر اٹھایا جائے

نظم 

جی تو کرتا ہے کہ اک حشر اٹھایا جائے
پھونک کے صور ہی سوتوں کو اٹھایا جائے
بے ضمیروں کو نہ مسند پہ بٹھایا جائے
منصفوں کو بھی تو سولی پہ چڑھایا جائے
کوئی آزادی کا سورج کبھی دیکھے تو سہی
اپنی آنکھوں پہ پڑا پردہ اٹھایا جائے
جو سماعت ہی نہ ہو اور نہ بینائی ہو
پھر انہیں کیسے دکھایا یا سنایا جائے
شیر بن کے نہ وہ معصوم سی بلّی جھپٹے
اس کو دیوار سے اتنا نہ لگایا جائے
جو کہ مسجودِ ملائک تھے سو نہ ان کو یارب
آسماں سے نہ کبھی ایسے گرایا جائے
یہ فرشتے تو شروع سے تھے حسد کے پتلے
ان کے لکھے کو بھی اتنا نہ بڑھایا جائے
ایک مدت ہوئی اْس چاند کو دیکھا تھا کبھی
پھر کسی طرح اْسے بام پہ لایا جائے
بھوک و افلاس کے مارے ہوئے گھر میں جا کر
کبھی روتے ہوئے بچوں کو ہنسایا جائے
جو کہ ڈرتے ہیں زمانے کی ستم ریزی سے
پیار سے ان کو بھی تو سینے سے لگایا جائے
کل جو ہونا ہے نظر آتا ہے تم کو حشامؔ
کیا ضروری نہیں یہ سب کو دکھایا جائے؟

حشام احمد سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم