MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خشک روٹی توڑنی ہے سرد پانی چاہیے

غزل

خشک روٹی توڑنی ہے سرد پانی چاہیے
کیا کسی گرجے کی کنڈی کھٹکھٹانی چاہیے

اے سماعت اس فضا میں آج بھی موجود ہے
ہاں نواے نغمۂ کن تجھ کو آنی چاہیے

کاہنا ہم سے روایت کا مکمل متن سن
بطن میں جلتی ہوئی شمع‌ معانی چاہیے

سابقہ نقشے پہ تازہ سلطنت ایجاد ہو
آسماں نیلا بنانا گھاس دھانی چاہیے

گم شدہ سورج کو روتا ہے مرا یوم سپید
سرمئی شب کو چراغ آں جہانی چاہیے

حسن کے گارے میں آب عشق کی چھینٹیں ملا
چمپئی رنگت میں آتش سنسنانی چاہیے

جسم کی گوشہ نشینی اور کتنے روز ہے
بندۂ رب علی کو لا مکانی چاہیے

احمد جہانگیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم