MOJ E SUKHAN
No Record Found
جب بھی بارش ہوتی ہےبھیگی رت میں دل والوں کیاک ہی خواہش ہوتی ہے
عظمی جون
غم نے اندر تلک جھنجوڑ دیا
کس رنگ میں بیان کریں ماجرائے قلب
سانحہ آج کا یہ کیا کم ہے
آ گئی سر پر قضا لو سارا ساماں رہ گیا
پڑا ہے زندگی کے اس سفر سے سابقہ اپنا
خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھ
دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاں
محبت میں کمی سی رہ گئی ہے
گلے سے دیر تلک لگ کے روئیں ابر و سحاب
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے