MOJ E SUKHAN
No Record Found
جب بھی بارش ہوتی ہےبھیگی رت میں دل والوں کیاک ہی خواہش ہوتی ہے
عظمی جون
چمن کو لگ گئی کس کی نظر خدا جانے
شکایت ہم نہیں کرتے رعایت وہ نہیں کرتے
خلق خدا ہے شاہ کی مخبر لگی ہوئی
اُس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے
یاد کیوں آرہا ہے مجھ کو تُو
ہر شخص وہاں بِکنے کو تیار لگے تھا
حلقۂ شعر و فن کی ہوائو! سنو، پھول کھلتے رہے نعت ہوتی
افسانہِ دنیا کا ہے کردار محبت
کسی در پہ جانے کو جی چاہتا ہے
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے