Khud ko Barbaad Rakhain Tujh ko Sanwary Jaaeen
غزل
خود کو برباد رکھیں تجھ کو سنوارے جائیں
زندگی کیا تجھے ہم یوں ہی گزارے جائیں
یہ تو طے ہے کہ وہ اب لوٹ کے آئے گا نہیں
چاہے اب لوگ اسے جتنا بھی پکارے جائیں
جب تیری یاد کبھی دل کو ستاتی ہے بہت
جی یہ کرتا ہے سمندر کے کنارے جایئں
تو سر بزم کسی اور کو دیکھے اور ھم
نظروں نظروں میں تری نظر اتارے جائیں
جیت تو آپ کا پیدائشی حق ہے صاحب
اور ھم جیت کے بھی جنگ میں ہارے جایئں
ہم تو دشمن سے بھی نفرت نہیں کرتے روحی
کیا خبر ہم اسی پاداش میں مارے جائیں
ریحانہ روحی
Rehana Roohi