MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ جوابوں سے سوالوں سے سمجھتا ہے مجھے

وہ جوابوں سے سوالوں سے سمجھتا ہے مجھے
اردو اخبار رسالوں سے سمجھتا ہے مجھے

میری مجبوری ہے کیا کتنے مسائل ہیں مرے
کچھ نہیں جانتا غزلوں سے سمجھتا ہے مجھے

دل کی پوشاک میں پیوند ہزاروں لیکن
وہ تو ان ظاہری شالوں سے سمجھتا ہے مجھے

لوگ جو کہتے ہیں وہ اس پہ یقیں رکھتا ہے
کیا ہے کردار مثالوں سے سمجھتا ہے مجھے

جس نے جانا ہی نہیں راز مری باتوں کا
وہ مرے خواب خیالوں سے سمجھتا ہے مجھے

کیا ہے پو شیدہ مرے ذہن میں کب جانتا ہے
میرے رخسار سے بالوں سے سمجھتا ہے مجھے

نیلما ناہید درانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم