MOJ E SUKHAN

دل کے زخم جلتے ہیں دل کے زخم جلنے دو

دل کے زخم جلتے ہیں دل کے زخم جلنے دو
ہم کو ٹھوکریں کھا کر آپ ہی سنبھلنے دو

روشنی فصیلوں کو توڑ کر بھی آئے گی
رات کی سیاہی کو کروٹیں بدلنے دو

سائباں کی خواہش میں اک سفر ہوں صحرا کا
جسم و جاں پگھلتے ہیں جسم و جاں پگھلنے دو

پتھروں کی چوٹوں سے آئنو نہ گھبراؤ
حادثوں کے آنگن میں زندگی کو پلنے دو

غم کی دھوپ میں جل کر رہ گئی ہر اک چھاؤں
ہم کو اپنی چاہت کے سائے سائے چلنے دو

جاذب قریشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم