MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آپ اگر اپنے خیالات نہیں بدلیں گے


آپ اگر اپنے خیالات نہیں بدلیں گے
تب تو اس دیس کے حالات نہیں بدلیں گے

خود کو بدلیں تو زمانہ بھی بدل جائے گا
ورنہ یہ ارض و سماوات نہیں بدلیں گے

ہے ترا شہر بدل دینے کا دعویٰ بے سود
جب تلک ملک کے دیہات نہیں بدلیں گے

یاد ہیں مجھ کو سبھی نظریں بدلنے والے
کیسے مانوں کہ وہ جذبات نہیں بدلیں گے

اے ہوا ! جاکے خزاں رُت کو یہ سمجھا دینا
سارے پیڑوں کے یہاں پات نہیں بدلیں گے

اک تغیر سے عبارت ہے نظامِ ہستی
چاند سورج مگر اوقات نہیں بدلیں گے

کوئی تو بات ہے جو ٹال رہے ہیں ہم کو
کیجئے وعدہ کہ اب بات نہیں بدلیں گے

اب دمِ مرگ ہے آجائیے ملنے ہم سے
اب کے ہم وقتِ ملاقات نہیں بدلیں گے

لاکھ سر پھوڑئیے سیما سے مباحث کیجئے
حق پہ ہیں اس کے خیالات نہیں بدلیں گے

عشرت معین سیما

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم