MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ جو ملتا تھا کبھی مجھ سے بہاروں کی طرح

وہ جو ملتا تھا کبھی مجھ سے بہاروں کی طرح
آج چبھتا ہے نگاہوں میں وہ خاروں کی طرح

وہ بھی کیا شخص ہے جو قصر تصور میں مجھے
روز آراستہ کرتا ہے مزاروں کی طرح

ڈوبنے ہی نہیں دیتا کبھی کشتی میری
اب بھی وہ سامنے رہتا ہے کناروں کی طرح

لاکھ مہتاب مری زیست میں آئے لیکن
درمیاں تجھ کو بھی دیکھا ہے ستاروں کی طرح

اس کی آنکھوں نے عجب سحر کیا ہے ہم پر
رات بھر پھرتے رہے بادہ گساروں کی طرح

آپ کی آنکھوں سے کچھ اور پتہ چلتا ہے
آپ دیکھا نہ کریں ہم کو نظاروں کی طرح

کس کو معلوم چھپائے ہے وہ خنجر کتنے
وہ جو ظاہر میں ملا کرتا ہے یاروں کی طرح

اس کے چہرے پہ تو نرمی ہے حلاوت ہے بہت
شمعؔ لہجہ ہے مگر اس کا شراروں کی طرح

سیدہ نفیس بانو شمع

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم