Choot jo dil Pa Lagi uska asar aaj bhi Hay
غزل
چوٹ جو دِل پہ لگی اُسکا اثر آج بھی ہے
زخمِ دل آج بھی ہے دردِ جگر آج بھی ہے
وقت تو تھم ہی گیا میرے ارادوں کی طرح
عمر کا میری مگر جاری سفر آج بھی ہے
وہ تو ہیں دور بہت میری نگاہوں سے مگر
دید کی انکے مری پیاسی نظر آج بھی ہے
ساری آسائشیں موجود ہیں دُنیا کی مگر
عشق میں انکے یہ دِل زیرو زبر آج بھی ہے
میں تو سمجھا تھا کہ وہ بھول گئے ہونگے فراز
میری چاہت پہ مگر اُنکی نظر آج بھی ہے
سرفراز احمد فراز دہلوی
Sarfaraz Ahmed Faraz Dehlvi