MOJ E SUKHAN

سانحہ ہو کے رہا چشم کا مرجھا جانا

سانحہ ہو کے رہا چشم کا مرجھا جانا
خواب لگتا ہے ترا خواب میں بھی آ جانا

آنکھ تا دیر رہی موجۂ غم ناک میں تر
حسن کا کھیل تھا آئینے کو چمکا جانا

تو سر بام ہوا بن کے گزرتا کیوں ہے
میرے ملبوس کی عادت نہیں لہرا جانا

دشت کے لب پہ ہے اس قطرۂ نیساں کا مزا
تو کہاں جان سکا میں نے تجھے کیا جانا

تخم بوتا ہے کوئی ہاتھ مری مٹی میں
مجھ کو آساں ہے بہت چھاؤں کا پھیلا جانا

شاہدہ حسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم