MOJ E SUKHAN

سراب شب بھی ہے خواب شکستہ پا بھی ہے

سراب شب بھی ہے خواب شکستہ پا بھی ہے
کہ نیند مانگتے رہنے کی کچھ سزا بھی ہے

تمام عمر چنوں گی میں ریزہ ریزہ تجھے
پس غبار نگہ ایک آئینہ بھی ہے

سپرد رقص کیا میں نے ہر تمنا کو
لہو کے شور کی اب کوئی انتہا بھی ہے

میں کیوں نہ ایک ہی قطرہ سے سیر ہو جاؤں
کسی کی پیاس کو دریا کبھی ملا بھی ہے

میان راہ کڑی دھوپ میں نہ چھوڑ مجھے
بتا تو دے کہ کہیں گھر کا راستہ بھی ہے

میں اس چراغ کو دشمن کی صف میں کیوں رکھوں
یہ میرے نام پہ کچھ دیر کو جلا بھی ہے

ہزار لذت خاموش کے نشے میں ہو دل
سخن کے نام پہ کچھ حرف مانگتا بھی ہے

مرے خلاف گواہوں کی کچھ کمی بھی نہیں
مگر ہر ایک مرے حق میں بولتا بھی ہے

سمٹ کے رہ گئے دیوار شہر خوف میں لوگ
کسے خبر ہو کہ زندہ کوئی بچا بھی ہے

ہجوم تشنہ لباں کا سراغ دے مجھ کو
وراثتوں میں مری دشت کربلا بھی ہے

شاہدہ حسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم