MOJ E SUKHAN

سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے

سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے
ہر در پہ جو جھک جائے اسے سر نہیں کہتے

کیا اہل جہاں تجھ کو ستم گر نہیں کہتے
کہتے تو ہیں لیکن ترے منہ پر نہیں کہتے

کعبے میں مسلمان کو کہہ دیتے ہیں کافر
بت خانے میں کافر کو بھی کافر نہیں کہتے

رندوں کو ڈرا سکتے ہیں کیا حضرت واعظ
جو کہتے ہیں اللہ سے ڈر کر نہیں کہتے

ہر بار نئے شوق سے ہے عرض تمنا
سو بار بھی ہم کہہ کے مکرر نہیں کہتے

مے خانے کے اندر بھی وہ کہتے نہیں مے خوار
جو بات کہ مے خانے کے باہر نہیں کہتے

کہتے ہیں محبت فقط اس حال کو بسملؔ
جس حال کو ہم ان سے بھی اکثر نہیں کہتے

بسمل سعیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم