MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ولیوں کے مزاروں پہ خدا بانٹ رہا ہے

ولیوں کے مزاروں پہ خدا بانٹ رہا ہے
حیران ہے کیوں دنیا کہ کیا بانٹ رہا ہے

ہوں غوث، ہوں داتا، مرے چشتی کہ مرے پیر
ان ہاتھوں سے وہ ہاتھ دوا بانٹ رہا ہے

درباروں مزاروں پہ کرم عرش بریں کا
اور زیر زمیں اسکا گدا بانٹ رہا ہے

سرکار کا دربار ہے جو چاہے یہاں مانگ
اس در پہ وہ رحمت کی ردا بانٹ رہا ہے

بن مانگے ملے لاکھ جو مانگو تو کئی لاکھ
بندوں میں عقیدت کا صلہ بانٹ رہا ہے

وہ رب ہے جو ولیوں کے ٹھکانوں سے حقیقی
جینے کی یہاں سب میں ادا بانٹ رہا ہے

دو دھار کی تلوار ہے یہ شرک خبردار
عابد یہ رہے یاد خدا بانٹ رہا ہے

عابد رشید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم