MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تم جو آؤ گے تو موسم دوسرا ہو جائے گا

تم جو آؤ گے تو موسم دوسرا ہو جائے گا
لو کا جھونکا بھی چلے گا تو صبا ہو جائے گا

زندگی میں قتل کر کے تجھ کو نکلا تھا مگر
کیا خبر تھی پھر ترا ہی سامنا ہو جائے گا

نفرتوں نے ہر طرف سے گھیر رکھا ہے ہمیں
جب یہ دیواریں گریں گی راستہ ہو جائے گا

آندھیوں کا کام چلنا ہے غرض اس سے نہیں
پیڑ پر پتا رہے گا یا جدا ہو جائے گا

کیا خبر تھی اے امیر شہر تیرے دور میں
سانس لینا جرم جینا حادثہ ہو جائے گا

آپ پیدا تو کریں دست ہنر پھر دیکھیے
آپ کے ہاتھوں میں پتھر آئینہ ہو جائے گا

میرے ہونٹوں پہ ہنسی آ کر رہے گی اے علیؔ
ایک دن یہ واقعہ بھی دیکھنا ہو جائے گا

علی احمد جلیلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم