غزل
ضبط کہتا ہے دل زار سنبھل جائے گا
شوق کہتا ہے ابھی تن سے نکل جائے گا
کل کی شب کٹ گئی جس طرح سے اے درد فراق
آج کا دن بھی اسی طرح سے ٹل جائے گا
تم جو بگڑے ہو تو بگڑا ہے مقدر اپنا
تم جو سنبھلو تو مقدر بھی سنبھل جائے گا
بد گمانی جو انہیں مجھ سے ہے گر دور ہوئی
ایک کانٹا سا مرے دل سے نکل جائے گا
تپش عشق سلامت ہے تو اک دن اے دوست
دل ترا موم کی مانند پگھل جائے گا
اس کو بخشے گا مرا عشق حیات جاوید
کون کہتا ہے ترا حسن یہ ڈھل جائے گا
درد الفت کہیں مٹتا ہے مٹائے سے جلیلؔ
آج پہلو سے گیا اور نہ کل جائے گا
جلیل قدوائی