MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ضبط کہتا ہے دل زار سنبھل جائے گا

غزل

ضبط کہتا ہے دل زار سنبھل جائے گا
شوق کہتا ہے ابھی تن سے نکل جائے گا

کل کی شب کٹ گئی جس طرح سے اے درد فراق
آج کا دن بھی اسی طرح سے ٹل جائے گا

تم جو بگڑے ہو تو بگڑا ہے مقدر اپنا
تم جو سنبھلو تو مقدر بھی سنبھل جائے گا

بد گمانی جو انہیں مجھ سے ہے گر دور ہوئی
ایک کانٹا سا مرے دل سے نکل جائے گا

تپش عشق سلامت ہے تو اک دن اے دوست
دل ترا موم کی مانند پگھل جائے گا

اس کو بخشے گا مرا عشق حیات جاوید
کون کہتا ہے ترا حسن یہ ڈھل جائے گا

درد الفت کہیں مٹتا ہے مٹائے سے جلیلؔ
آج پہلو سے گیا اور نہ کل جائے گا

جلیل قدوائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم