MOJ E SUKHAN

فرقت کی لمبی راتوں میں اشکوں کے دیے جلاتا ہوں

فرقت کی لمبی راتوں میں اشکوں کے دیے جلاتا ہوں
ناکامئ الفت کے شکوے تنہائی میں دوہرا تا ہوں

اب توڑ کے آس امیدوں میں ارمانوں کا خوں کر کے
وہ زخم جو تو نے بخشے ہیں ان زخموں کو سہلاتا ہوں

اس آتش الفت کی حدت مجھ کو تو نہ زندہ چھوڑے گی
میں ظالم وقت کے دھارے میں تیزی سے بہتا جاتا ہوں

آئے گی کبھی نہ گلشن میں قربت کے پھول بہار لئے
اب خانہء دل میں اے بسمل فرقت کے خار سجاتا ہوں

اقبال بسمل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم