MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

فضا بدلی ہوئی تھی عالم ہستی کے گلشن کی

فضا بدلی ہوئی تھی عالم ہستی کے گلشن کی
مجھے جب ہوش میں لائیں ہوائیں ان کے دامن کی

کوئی میرے سوا سمجھا نہ رمز اس چشم پر فن کی
ہمیشہ کشمکش چلتی رہی شیخ و برہمن کی

بچی جو بجلیوں کے بعد خاکستر وہ باقی تھی
کوئی ہیت نہ تھی میرے نشیمن میں نشیمن کی

الٰہی کون وہ محو خرام ناز ہے جس سے
فضائیں مست ہوتی جارہی ہیں آج گلشن کی

کسی صورت نہیں کھلتا گلوں کا راز بلبل پر
کھلی ہے آنکھ نرگس کی زباں ہے بند سوسن کی

نہ ہو شامل اگر حسن نظارہ سوز کی فطرت
کریں گی خود حفاظت بجلیاں میرے نشیمن کی

بڑھی ہیں ناخن وحشت کی چیرہ دستیاں اتنی
گریباں پرزے پرزے ہو چکا اب خیر دامن کی

مری تربت پہ یارب کون یہ محشر خرام آیا
کہ مٹی خود بخود اڑنے لگی ہے میرے مدفن کی

وفاؤں میں تو اے قاتلؔ نہیں فریاد کی وسعت
نکالو اب نئی طرز فغاں نالوں کے شیون کی

قاتل اجمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم