قدرت جو ہمیں طاقت تخسیرِ انا دے
ہم لوگ نہ پہنیں یہ تصنع کے لبادے
مجھ سے بی جوابوں پہ مصر کیوں ہو چراغو
تم بھی تو سمجھتے ہو ہواؤں کے ارادے
اب ایسی ہوا ڈھونڈ کے لاؤ گے کہاں سے
ٹوٹے ہوئے پتوں کو جو شاخوں سے ملا دے
ہم حال کے پیکر کو تراشیں گے کچھ ایسے
ماضی کے دریچوں میں جو جھانکے، نہ صدا دے
در پردہ سہیلؔ اس میں کئی دست ہنر ہیں
تو بھی تو کبھی ہجر کے شعلوں کو ہوا دے
سہیل غازی پوری