MOJ E SUKHAN

لاکھ احساس تیرا کشتۂ حالات رہے

غزل

لاکھ احساس تیرا کشتۂ حالات رہے
ترے ہونٹوں پہ شگفتہ سی کوئی بات رہے

تو نے ہر دور میں الٹی ہے بساط عالم
آج یہ آخری بازی بھی ترے بات رہے

یہ بھی ملنا ہے کہ بس مل کے بچھڑ جاتے ہیں
لطف تو جب ہے کہ اک عمر ملاقات رہے

کائنات ان کے لئے ایک سراب ایک خیال
جو نگہبان حرم محو غم ذات رہے

یوں سر بزم کوئی نغمۂ جاوید سنا
کہ ترے بعد بھی محفل میں تری بات رہے

کیا عجب ایک ہی منزل ہو ہماری اے دوست
راہ کٹ جائے گی دونوں کا اگر سات رہے

اپنا شیوہ کہ جلاتے ہیں اندھیروں میں چراغ
ان کی سازش کہ زمانے میں یوں ہی رات رہے

جو لگاتے رہے ہر حال پہ جاں کی بازی
کیوں جمیلؔ ان کے مقدر میں فقط بات رہے

جمیل ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم