MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیا

لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیا
ترا پیام تو خاموش سی ہوا نے دیا

جلا رہا تھا مجھے میں نے بھی جلانے دیا
اجالا اس نے دیا بھی تو کس بہانے دیا

ابھی کچھ اور ٹھہر جاتا میرے کہنے پر
وہ جانے والا تھا خود ہی سو میں نے جانے دیا

وہ اپنی سیر کے قصے مجھے سناتا رہا
مجھے تو حال دل اس نے کہاں سنانے دیا

میں شکر اس کا نہ کیسے ادا کروں جاناں
شعور مجھ کو محبت کا جس خدا نے دیا

کرم کے پل میں یہ روشن ہوا بحمداللہ
نہیں بجھے گا مرا تجھ سے اے زمانے دیا

شمارؔ سامنے اس کے بھی گفتگو کے وقت
جو رنگ چہرے پہ آیا تھا میں نے آنے دیا

اختر شمار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم