MOJ E SUKHAN

مانتے سب ہیں کہ تقدیر کسی اور کی ہے

مانتے سب ہیں کہ تقدیر کسی اور کی ہے
یہ نہیں جانتے تبدیر کسی اور کی ہے

تو نے چہرے پہ خراشیں جو سجا رکھی ہیں
ایسے لگتا ہے کہ تصویر کسی اور کی ہے

سر کی دستار اسی ڈر سے اتار آیا ہوں
نام میرا ہے یہ توقیر کسی اور کی ہے

اس لیے چپ ہوں میں اظہار نہیں کر سکتا
شعر کہتا ہوں تو تشہیر کسی اور کی ہے

لوگ چلتے ہیں محبت کے سفر میں ایسے
پاؤں اپنے ہیں تو زنجیر کسی اور کی ہے

روتے پھرتے ہیں خطاؤں کہ یہ پتلے سارے
ہم تو مارے گئے تقصیر کسی اور کی ہے

پھر بھی رانجھے نے محبت نہیں چھوڑی ورنہ
جانتا تھا کہ مری ہیر کسی اور کی ہے

تجھ کو پا کر مجھے احساس ہوا ہے مظہر
میرا قبضہ ہے تو جاگیر کسی اور کی ہے

محمد مظہر نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم