متاعِ حرفِ تمنّا پہ دل سے پیار آۓ
صبا کا جھونکا ترا روپ جب نکھار آۓ
گزار دی وہ شبِ غم وہ قیدِ تنہائی
تھی آرزو مری تو آۓ بار بار آۓ
وہ شاخِ گْل پہ کسی کوکتی کوئل کا الاپ
وہ حرزِ جان کا صدقہ ہو جب قرار آۓ
میں رنگ و نور کی دنیا سے لوٹ آؤں گا
بس ایک بار سہی آۓ تو بہار آۓ
یہ لوگ کوۓ ملامت کا ذکر کرتے ہیں
کوئی تو اذنِ وفا لے کے اشک بار آۓ
ستم ہوۓ ہیں بہت بے چراغ لوگوں پر
جو ساری عمر کسی آس میں گزار آۓ
کچھ اہتمام کرو شآد اب کی بار ایسا
مرے چمن میں بھی اب دائمی بہار آۓ
شجاع الزماں خان شاد