MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

محبت دی تو ایسی کی محبت دی مقدر میں

محبت دی تو ایسی کی محبت دی مقدر میں
مہ نو دیکھ کر دیکھی جو صورت آب خنجر میں

لہو کہتے ہیں جس کو وہ کہاں شیدائے مضطر میں
برنگ خوں چھلکتا ہے غم دل دیدۂ تر میں

ہوا کرتی ہے نفرت بھی نہ یہ نفرت قیامت کے
کہ سایہ مجھ سے رہتا ہے گریزاں کوئی دلبر میں

نہیں معلوم کس کس کا لہو خنجر نے چاٹا ہے
کہ ہر جوہر برنگ گل ہے موج آب خنجر میں

مسرت وصل کی کیا ہو جو گزرے باتوں باتوں میں
خیال شام فرقت میں پیام صبح خاور میں

گوارا کس کو ہو ساقی یہ بوئے غیر صہبا کے
کسی نے پی ہے ساغر میں جو بو ہے غیر ساغر میں

گئے پہلو سے تم کیا گھر میں ہنگامہ تھا محشر کا
چراغ صبح گاہی میں جمال شمع انور میں

مسرت دل کی کہتے ہے کہ منہ سے شمع محفل کے
برابر پھول جھڑتے ہیں کوئی آنے کو ہے گھر میں

ہمارے وصل کی شب بھی عجب تشویش میں گزری
تلاش وصل میں دل تھا نگاہیں صبح خاور میں

نہ تم ضد اپنی چھوڑو گے نہ ہم سے وضع چھوٹے گی
چلو بس ہو چکا ملنا نہیں ملنا مقدر میں

کچھ اس کے دل میں ذکر وصل ایسا چھپ کے بیٹھا ہے
وفا مضمر معانی میں معانی وقف مصدر میں

تقاضا سن کے کہتے ہیں یہ صورت ہے بلانے کی
کوئی منہ پہلے بنوائے بلائے پھر ہمیں گھر میں

ہوا ہے ذوق آرائش کا پھر اس حسن آرا کو
کوئی دے دے اٹھا کر آئینہ دست سکندر میں

اگر ہم تم سلامت ہیں کبھی کھل جائے گی قسمت
اسی دور لیالی میں اسی گردوں کے چکر میں

جلاتا ہے مجھے یہ ماہ سے مہتاب بن بن کر
گزرتی ہے قیامت مجھ پہ یاد روئے دل بر میں

ہمیں نسبت ہے جنت سے کہ ہم بھی نسل آدم ہیں
ہمارا حصہ راقمؔ ہے ارم میں حوض کوثر میں

راقم دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم