MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

راحت نظر بھی ہے وہ عذاب جاں بھی ہے

راحت نظر بھی ہے وہ عذاب جاں بھی ہے
اس سے ربط لذت بھی اور امتحاں بھی ہے

فاصلے مٹے بھی ہیں اور کچھ بڑھے بھی ہیں
یہ سفر ضروری ہے اور رائیگاں بھی ہے

عمر بھر کی الجھن دے ایک پل کا نظارہ
تیرا غم حقیقت بھی اور بے نشاں بھی ہے

تیری میٹھی باتوں میں جھیل جھیل آنکھوں میں
آگ بھی سلگتی ہے درد سے اماں بھی ہے

طے کریں تو ہم کیسے فاصلے دل و جاں کے
ایک یہ انا کا پل اپنے درمیاں بھی ہے

لاکھ میں تجھے بھولوں لاکھ تو مجھے بھولے
ایک رشتۂ بے نام اپنے درمیاں بھی ہے

عشق دل میں طغیانی برف برف ہونٹوں پر
سرپھری بھی ہے چاہت اور بے زباں بھی ہے

تیری زندگی سرگرم میری زندگی الجھن
رقص میں بھی ہے خواہش اور سرگراں بھی ہے

شامؔ جانے کیوں ہم نے سی لیا ہے ہونٹوں کو
ورنہ اپنے ہاتھوں میں وقت کی عناں بھی ہے

محمود شام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم