MOJ E SUKHAN

محبت کا ستارا دیکھنا ہے

محبت کا ستارا دیکھنا ہے
مجھے دل پارا پارا دیکھنا ہے

جلا کر بتیاں گمراہیوں میں
سمندر کا نظارہ دیکھنا ہے

تمہارے ہونٹ پر جو کالا تل ہے
اسی کا استعارہ دیکھنا ہے

مجھے اپنے بڑوں کی فکر لاحق
تمہیں تو بس گزارہ دیکھنا ہے

میری آنکھوں میں آنسو بھر کے جاناں
تمہیں ماضی دوبارہ دیکھنا ہے

کسی صورت بھی مجھ کو زندگی کا
وہ پہلے سا نظارہ دیکھنا ہے

تمہاری شاعری کو جان ناہید
ہے کس نے اب نکھارا دیکھنا ہے

ناہید علی۔

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم