MOJ E SUKHAN

مرہمی باتوں سے تیری زخمِ دل سلتے رہیں

مرہمی باتوں سے تیری زخمِ دل سلتے رہیں
کاش ہم دونوں یونہی اکثر کہیں ملتے رہیں

یونہی تیرے پیار کی شبنم سدا گرتی رہے
دل کے آنگن میں تری باتوں کے گل کھلتے رہیں

تو اجالے کی کرن ہے میں اندھیرا رات کا
کیا ہی اچھا ہو کہ دونوں شام کو ملتے رہیں

گنگناؤ تو فضائیں گنگنائیں ساتھ ساتھ
مسکراؤ تو ہمیشہ پھول ہی کھلتے رہیں

کس قدر دل کش تھا تیرا مجھ کو کہنا الوداع
کہہ رہا تھا دل حنائی دست یہ ہلتے رہیں

یاد ہے عظمی تمہیں بیتے دنوں کی آرزو
ان سے ہم ملتے رہیں اور ہم سے وہ ملتے رہیں

عظمی جون

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم