MOJ E SUKHAN

یوں تار تار پنا گریباں کریں گے ہم

یوں تار تار پنا گریباں کریں گے ہم
یوں احترامِ فصلِ بہاراں کریں گے ہم

اک روز اہلِ دہر کو حیراں کریں گے ہم
ذروں کو رشکِ مہرِ درخشاں کریں گے ہم

خونِ جگر سے سرخ بیاباں کریں گے ہم
ویرانیوں کو رشکِ گلستاں کریں گے ہم

احسانِ چارہ ساز گوارہ نہیں ہمیں
اب خود ہی اپنے درد کا درماں کریں گے ہم

افسانہِ حیات کا عنواں کوئی نہیں
اس داستاں کو حاصلِ عنواں کریں گے ہم

درکار ہے جہاں کو پھر اک روز انقلاب
بیدارشاد فطرتِ انساں کریں گے ہم

شاد بہٹوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم