MOJ E SUKHAN

نکتہ چیں ہیں لوگ میرے گاؤں کے چوپال میں

نکتہ چیں ہیں لوگ میرے گاؤں کے چوپال میں
بچ گیا آفت زدہ خستہ مکاں بھونچال میں

چکھ رہا ہوں آزمائش کی گھڑی کا ذائقہ
اب چراغِ سر، سجے گا اک سنہرے تھال میں

میری پیشانی پہ تیروں نے لکھی ایسی غزل
پھول زخموں کے مہک اٹھے بدن کی ڈھال میں

فکرِ نو کی روشنی ذہنوں میں در آئی ہے کیا
بڑھ گئے بچے، بڑے بوڑھوں سے استدلال میں

دل کو ہے اس شہر کی گلیوں میں جینے کی طلب
نفرتیں رقصاں جہاں ہیں مختلف اشکال میں

چَھٹ گئی گردِ مسافت تو صباؔ عقدہ کھلا
میں اکیلا رہ گیا ہوں شہرِ بداعمال می
ں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم