مسلسل کرب کا اک سلسلہ دیکھیں
ضروری ہے تمہارا راستہ دیکھیں
ہم اہلِ درد ہیں سو ہم پہ لازم ہے
بہاروں میں خزاں کا حاشیہ دیکھیں
مری تشنہ لبی بنیاد صحرا ہے
مجھے یہ قیس و مجنوں رہنما دیکھیں
ہیں میری دسترس میں یہ سبھی دریا
سمندر ہوں میں میرا حوصلہ دیکھیں
سبھی در تو مقفّل ہیں صدا کیا دیں
صدا کا امتحاں ہم جابجا دیکھیں
اداسی سرمئی شاموں کے جیسی ہے
دسمبر میں بدلتی رت ذرا دیکھیں
(مہوش اشرف)