MOJ E SUKHAN

مسلسل کرب کا اک سلسلہ دیکھیں

مسلسل کرب کا اک سلسلہ دیکھیں
ضروری ہے تمہارا راستہ دیکھیں

ہم اہلِ درد ہیں سو ہم پہ لازم ہے
بہاروں میں خزاں کا حاشیہ دیکھیں

مری تشنہ لبی بنیاد صحرا ہے
مجھے یہ قیس و مجنوں رہنما دیکھیں

ہیں میری دسترس میں یہ سبھی دریا
سمندر ہوں میں میرا حوصلہ دیکھیں

سبھی در تو مقفّل ہیں صدا کیا دیں
صدا کا امتحاں ہم جابجا دیکھیں

اداسی سرمئی شاموں کے جیسی ہے
دسمبر میں بدلتی رت ذرا دیکھیں

(مہوش اشرف)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم