MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سوال کیسے کروں میں اس سے جواب ہے جو مری دعا کا

سوال کیسے کروں میں اس سے جواب ہے جو مری دعا کا
کرے گا کیسے وہ بے وفائی مجھے یقیں ہے مری وفا کا

نہ اس سے ملنے کی ہے تمنا نہ اس کو پانے کی آرزو ہے
دیا محبت کا جل رہا ہے جو جی میں آئے کرے ہوا کا

جو بادلوں پر میں چل رہی ہوں تو آسمانوں کو چھو رہی ہوں
کہ ساتھ میرے ہی چل رہا ہے وہ ہاتھ تھامے ہوئے گھٹا کا

میں اس کے شعروں میں ڈھل رہی ہوں وہ میرا لہجہ بدل رہا ہے
میں چپ رہوں اور کہوں نہ کچھ بھی یہی تقاضہ تو ہے حیا کا

بھلانے بیٹھی ہوں ساری دنیا دھڑک رہا ہے وہ میرے دل میں
جو دوریاں ہیں سمندروں کی وہ فاصلہ ہے بس اک صدا کا

الماس شبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم