MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ​

ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ​
گزار دیں گے اِسی خوشگوار یاد کے ساتھ​

​یہ ذوق و شوق فقط لُطفِ داستاں تک ہے​
سفر پہ کوئی نہ جائے گا سِندباد کے ساتھ​

​زمانہ جتنا بکھیرے، سنوَرتا جاؤں گا​
ازل سے میرا تعلق ہے خاک و باد کے ساتھ​

​اُسے یہ ناز، بالآخر فریب کھا ہی گیا​
مجھے یہ زعم کہ ڈُوبا ہوں اعتماد کے ساتھ​

​بڑھا گیا مرے اشعار کی دلآویزی​
تھا لُطفِ ناز بھی شامل کِسی کی داد کے ساتھ​

​گزر رہی ہے کچھ اِس طرح زندگی محسن​
سفر میں جیسے رہے کوئی گردباد کے ساتھ​

​محسن بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم