MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تجسس کاہے کا کیا ہو گیا ہے

تجسس کاہے کا کیا ہو گیا ہے
وہ بچھڑا کب ہے تجھ میں کھو گیا ہے

وہی اک شخص جو کچھ بھی نہیں تھا
مجھے اپنا کے سب کچھ ہو گیا ہے

چھٹا تو کیا ہے تیرے غم کا بادل
برس کر اور گہرا ہو گیا ہے

محبت میں تو راتیں جاگتی ہیں
کوئی کچھ سوچ کر ہی سو گیا ہے

وہ اتنے سنگ دل پہلے کہاں تھے
مرا ملنا قیامت ہو گیا ہے

مجھے بے موت اب مرنا پڑے گا
سنا ہے کوئی میرا ہو گیا ہے

غزل کہہ کر غم جاناں سے انجمؔ
تعلق اور گہرا ہو گیا ہے

انجم فوقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم