MOJ E SUKHAN

میں تیرے ساتھ ہوں تجھ کو مگر نہیں جانا

میں تیرے ساتھ ہوں تجھ کو مگر نہیں جانا
اسی لیے ہی تجھے ہمسفر نہیں جانا

جب اتنے راہ میں رسم و رواج حائل ہیں
ادھر کا سوچتے کیوں ہو جدھر نہیں جانا

وہ میرا دوست کسی مصلحت سے ہار گیا
کہا تھے جس نے زمانے سے ڈر نہیں جانا

اسی لیے تو کبھی دل کو ٹوکتے نہیں ہم
ہمارے کہنے پہ اس نے سُدھر نہیں جانا

جدائی شوق ہے اس کا تو شوق سے جائے
مرے ہوئے نے کوئی اور مر نہیں جانا

مجھے خبر ہے کہ اے دشت تو بھی تنہا ہے
میں آ گیا ہوں تو اب چھوڑ کر نہیں جانا

عجب نہیں ہے کہ وہ اب بھی یاد آتا ہے
میاں یہ عشق ہے اس کا اثر نہیں جانا

کہاں خبر تھی وہ پیمان بھول جائے گا
جو مجھ سے کہتا تھا اکثر مکر نہیں جانا

صغیر سود و زیاں کو بھی دیکھتا کب ہے
اُدھر ہی جاتا ہے یہ دل جدھر نہیں جانا

صغیر احمد صغیر.

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم