MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بارش ہے تنہائی ہے

غزل

بارش ہے تنہائی ہے
یاد تمہاری آئی ہے

یاد تجھے کیوں کرتے کرتے
آنکھ مری بھر آئی ہے

ترک تعلق کیسے کر لوں
اس میں تو رسوائی ہے

مجھ کو وفا نہ کرنی آئی
تو بھی تو ہرجائی ہے

کوئل جیسی تیری بولی
خوشیوں کی شہنائی ہے

سینے میں جو دھڑک رہا ہے
دل تیرا شیدائی ہے

میرے مرنے پر خوشیوں کی
محفل خوب سجائی ہے

عشق میں میری قسمت مجھ کو
موت کے در پر لائی ہے

ایٹم بم بھی بن سکتا ہے
اک ذرہ جو رائی ہے

پیار کا ہے جو منکر ساغرؔ
پاگل ہے سودائی ہے

عبد المجید ساغر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم