غزل
بارش ہے تنہائی ہے
یاد تمہاری آئی ہے
یاد تجھے کیوں کرتے کرتے
آنکھ مری بھر آئی ہے
ترک تعلق کیسے کر لوں
اس میں تو رسوائی ہے
مجھ کو وفا نہ کرنی آئی
تو بھی تو ہرجائی ہے
کوئل جیسی تیری بولی
خوشیوں کی شہنائی ہے
سینے میں جو دھڑک رہا ہے
دل تیرا شیدائی ہے
میرے مرنے پر خوشیوں کی
محفل خوب سجائی ہے
عشق میں میری قسمت مجھ کو
موت کے در پر لائی ہے
ایٹم بم بھی بن سکتا ہے
اک ذرہ جو رائی ہے
پیار کا ہے جو منکر ساغرؔ
پاگل ہے سودائی ہے
عبد المجید ساغر