MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نام آئے مِرا ہونٹوں پہ تِرے نام کے ساتھ

غزل

 

نام آئے مِرا ہونٹوں پہ تِرے نام کے ساتھ
بیتے ہر دن مرا جو تِری حسیں شام کے ساتھ

کب تغّیر کو کبھی روک سکی ہے دنیا
وقت چلتا ہی رہا گردشِ ایام کے ساتھ

دوستوں سے میں گلے مل لوں مری خواہش ہے
وقت کٹ جائے مِرا یوں بڑے آرام کے ساتھ

وقت کی آندھیوں میں ساتھ ہمیشہ ہی دیا
کیوں مِرا آنے لگا نام یوں دشنام کے ساتھ

اصل دولت ہے جہاں میں ملے عزّت سب سے
رہ نہ پاؤں کبھی بھی میں کسی الزام کے ساتھ

بیٹیاں ہوتی ہیں رخصت سبھی میکے سے مگر
اُلفتیں رہتی ہیں پائندہ دروبام کے ساتھ

شعر شاعر پہ اُترتا ہے روانی میں ثمر
اسلئے شاعری کا وصف ہے الہام کے ساتھ

گور سے گر سنو تو یہ ہے بہت عمدہ کلام
ہے ثمر کی یہ غزل خوبء پیغام کے ساتھ

ثمرین ندیم ثمر

دیگر پوسٹس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم