غزل
گیت پہلے سے کہاں اب وہ رہے ساز کہاں
ہجر میں تیرے مری زیست میں وہ ناز کہاں
کس طرح آکے یہاں جرأتِ اِظہار کروں
تابِ گویائی کہاں نُدرتِ الفاظ کہاں
کھوگئے جانے کہاں سارے فسانے میرے
زندگی کے وہ نہاں گُم شدہ سے راز کہاں
یہ محبت کی ہے رنگت تیرے چہرے پر آج
خوش نما رنگ ہیں لیکن تیرے انداز کہاں
جو لڑے قوم کی خاطر کسی بھی دُشمن سے
اب وہ مضبوط سا شاہین نما باز کہاں
آسمانوں کی بلندی کو چھوؤں میں کیسے
تابِ رفتار کدھر ، طاقتِ پرواز کہاں
وہ مرا ہمدمِ دیرینہ میرا نبض شناس
اب ثمرؔ تیرا وہ ہمدرد سا ہمراز کہاں
ثمرین ندیم ثمر