MOJ E SUKHAN

نشانی

جہاں ہمارے نفس کی خوشبو
تمہارے دل میں اتر رہی ہے
مشامِ جاں میں یوں بھر رہی ہے
وہ رات تجسیم کر رہی ہے
جو ہو بہو ہے ہمارے جیسی
وہیں پہ دیکھو
ہمارے تن کی خزاں رسیدہ
اجاڑ رت میں
بدن کے بت میں
عجیب صورت ابھر رہی ہے
جو ہو بہو ہے تمہارے جیسی

کرن رباب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم