MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

فصیل ہجر پر اترا ہے مہتاب شناسائی

فصیل ہجر پر اترا ہے مہتاب شناسائی
چمک اٹھا ہے اک مدت کے بعد ایوان تنہائی

لکھا جو کچھ ہے دیواروں پر وہ پڑھنے سے کیا حاصل
ادھر سے پھیر لو نظریں یہی ہے شرط دانائی

میں اپنی ذات کے اندر اگر خوش ہوں تو پھر مجھ کو
پریشاں کسی طرح باہر کی ہر صورت نظر آئی

جو سچ پوچھو تو خود روشنی بد ظن چراغوں سے
ہوا کو لگ رہا ہے مفت میں الزام رسوائی

کبھی چہرہ، کبھی آنکھیں کبھی لب بول اٹھتے ہیں
چھپانے سے بہر صورت کہاں چھپتی ہے سچائی

جگر کے زخم پھولوں کی طرح اب تک مہکتے ہیں
پڑی ان پر نہ جانے کس گھڑی چشم مسیحائی

خزاں ہوتی تو کچھ ہوتا، سہیلؔ اس کو کہیں گے کیا
ہوئی ہے پتھروں سے موسم گل میں پذیرائی

سہیل غازی پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم