MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہ خسروی کا شوق ہے نہ سروری میں خوش

Na Khusravi Ka Shooq hay no servari main Khush

غزل

نہ خسروی کا شوق ہے نہ سروری میں خوش
عاجز مزاج لوگ ہیں ہم عاجزی میں خوش

تُو میرے حال, غم پہ فسردہ ہو یا نہ ہو
میں اپنا حال بھول کے تیری خوشی میں خوش

کرتا مقابلہ تو فتح دو قدم پہ تھی
پسپا ہوا يوں دل تھا تری برتری میں خوش

تُجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
ورنہ ہے کون تیرے بنا زندگی میں خوش

تُو ہنس رہا ہے مجھ پر میرا حال دیکھ کے
میں جانتا ہوں پھر بھی ہوں تیری ہنسی میں خوش

بندہ نواز تو ہے تو یارا بھی ہے ترا
بندہ اسی یقین پہ ہے بندگی میں خوش

تُو چل دیا تو میرے ستارے بھی ساتھ رکھ
میں تیرے بعد ہجر کی تیرہ شبی میں خوش

اپنی کشید, جان سے پیتے رہے تقی
اور یار کم نظر رہے بادا کشی میں خوش

سید تقی حیدر تقی

Syed Taqi Haider Taqi

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم