Hashyee khenchay gayee kab dairay khenchay gayee
غزل
حاشیے کھینچے گئے کب دائرے کھینچے گئے
کون ہوں میں جاننے کو زائچے کھینچے گئے
اپنے ہونے کا منایا غم اگر میں نے کبھی
پتلیوں سے خواب تک اچھے برے کھینچے گئے
اک صدائے عشق پر لبیک کیا دل نے کہا
دار پر دل کے مکیں چھوٹے بڑے کھینچے گئے
اس سے پہلے سر سرِ تسلیم خم کرتا مگر
آرزوؤں کے بدن کھوٹے کھرے کھینچے گئے
کر کے ان آسائشوں میں زندگی کو مبتلا
خشک پیڑوں کے بہانے سب ہرے کھینچے گئے
دھوپ دل تھامے ہوئے دیوار کو تکنے لگی
کیمرے کی آنکھ سے جب آئنے کھینچے گئے
چار پیسوں کے لیے دامِ ضرورت پھینک کر
دل دریدہ بستیوں سے سانحے کھینچے گئے
ہم بھی ہو جائیں کسی صورت یہاں پر سرخرو
آبلہ پائی کے ہوتے راستے کھینچے گئے
پہلے عزت لوٹ لی انصاف کی دیوی کی پھر
اپنے مطلب کے رگوں سے فیصلے کھینچے گئے
اس لیے موجِ نسیمی ہو گئی ہم سے خفا
پر حسیں کچھ تتلیوں کے جسم سے کھینچے گئے
نسیم شیخ
Naseem Shaikh