MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ زندگی جو شب انتظار گزری تھی

غزل

وہ زندگی جو شب انتظار گزری تھی
ترے کرم سے بہت خوش گوار گزری تھی

غضب کہ آج وہی دل ہے غم کش دنیا
نگاہ ناز بھی کل جس پہ بار گزری تھی

سکوں نصیب وہی اب ہیں جن کی عمر کبھی
حریف گردش لیل و نہار گزری تھی

فریب نور سحر دے گئی نگاہوں کو
جو برق رات سر شاخسار گزری تھی

زمانہ آج قیامت سمجھ رہا ہے جسے
وہی تو سر سے مرے بار بار گزری تھی

خبر ہے کس کو نشیمن کے چار تنکوں کی
یہ جانتا ہوں صبا بے قرار گزری تھی

نہ جانے کیوں ہے محبت کو پھر اسی کی تلاش
وہ برہمی جو کبھی ناگوار گزری تھی

نظیرؔ لالہ و گل پر نکھار ہے اب تک
ہے کب کی بات چمن سے بہار گزری تھی

سعادت نظیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم