MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ ہمیں راہ میں مل جائیں ضروری تو نہیں

وہ ہمیں راہ میں مل جائیں ضروری تو نہیں
خودبخود فاصلے مٹ جائیں ضروری تو نہیں

چاند چہرے کہ ہیں گم وقت کے سناٹے میں
ہم مگر ان کو بھلا پائیں ضروری تو نہیں

جن سے بچھڑے تھے تو تاریک تھی دنیا ساری
ہم انہیں ڈھونڈ کے پھر لائیں ضروری تو نہیں

تشنگی حد سے سوا اور سفر جاری ہے
پر سرابوں سے بہل جائیں ضروری تو نہیں

زندگی تو نے تو سچ ہے کہ وفا ہم سے نہ کی
ہم مگر خود تجھے ٹھکرائیں ضروری تو نہیں

جوئے احساس میں لرزاں یہ گریزاں لمحات
نغمۂ درد میں ڈھل جائیں ضروری تو نہیں

یہ تو سچ ہے کہ ہے اک عمر سے بس ایک تلاش
ہم مگر اپنا پتا پائیں ضروری تو نہیں

زاہدہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم