ٹوٹتا کیوں ہے بار بار یہ دل
مانتا کیوں نہیں ہے ہار یہ دل
پیار میں ہر طرف خسارہ ہے
کیسا کرتا ہے کاروبار یہ دل
کوئی اس کو سنبھالنے آئے
اب حدوں سے ہوا ہے پار یہ دل
دھڑکنوں میں چھپا یہ جاپ ہے کیا
کس کو کرتا ہے اب شمار یہ دل
رات دن کس کو یاد کرتا ہے
رات دن کیوں ہے بیقرار یہ دل
جب دھڑکتا ہے مجھ کو ڈستا ہے
مجھ کو لگنے لگا ہے مار یہ دل
اس کو پھر رب سے جا ملاتا ہے
جس پہ ہوتا ہے آشکار یہ دل
نیلما ناہید درانی