MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پتہ چلا کہ تجھے میرا انتظار نہ تھا

پتہ چلا کہ تجھے میرا انتظار نہ تھا
میں جانتا ہوں ترا مجھ پہ اختیار نہ تھا

ہوائیں روز ادھر سے ادھر سفر میں رہیں
مسافرت میں شجر کوئی سایہ دار نہ تھا

شگاف بھر نہ سکا آج تک محبت کا
اسی کے زخم کا جس میں کہیں قرار نہ تھا

ہر ایک بات پہ شکوہ یہ مجھ پہ طعنہ زنی
سنو! کہاں مرے لہجے میں اعتبار نہ تھا

لباسِ عشق پہن کر بھلا میں کیا کرتا
مرے حواس پہ اتنا بھی تو سوار نہ تھا

بس ایک ہجر کا موسم بچا تھا میرے لئے
یہاں پہ کوئی بھی موسم سدا بہار نہ تھا

ابھی تو عشق کی تازہ ہوا چلی تھی رضا
کنار دشت پہ کوئی بھی لالازار نہ تھا

حسن رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم